PK Globe

It's all about Globe

چوڑیوں کی کھنک کے پیچھے موت کی گھنٹی


چوڑی گھر

Picture caption

چوڑی گھر نامی کارخانہ خاص قسم کی دھاتی چوڑی بنانے کے لیے مقبول ہے

خواتین کی عید چوڑیوں کے بنا ادھوری ہے۔ جدید دور میں کانچ کی چوڑیوں کی جگہ دھاتی چوڑیوں نے لے لی ہے، جو رنگ اور کھنک میں کانچ کی چوڑیوں کے ہم پلہ ہیں مگر اس کھنک کے پیچھے یہ چوڑیاں بنانے اور انھیں یہ خوشنما رنگ دینے والوں کی زندگیوں پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

شاہدرہ کے علاقے بشیر کالونی میں چوڑیوں کی گھریلو صنعت زوروں پر ہے۔ علاقے کا تقریباً ہر خاندان چوڑی کے کاروبار سے منسلک ہے اور ہر مکان ایک چھوٹے سے کارخانے میں بدل چکا ہے۔

یہیں واقع چوڑی گھر نامی کارخانہ خاص قسم کی دھاتی چوڑی بنانے کے لیے مقبول ہے۔ یہاں دن رات پیتل کی چوڑیوں کو ڈھالا جا تا ہے۔

رنگین چوڑیوں کی بیرونی سطح چھیل کر مزید خوبصورت بنایا جاتا ہے پھر مشین کے ذریعے انھیں مختلف اشکال دینے کے بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ کئی چوڑیوں کو چمکدار رنگ دینے کے لیے مختلف کیمیکلز ملا کر سپرے کے ذریعے ان پر رنگ کیا جاتا ہے۔

محمد ریاض دس سال سے اس کارخانے میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کا کام تیار چوڑیوں کو رنگ کرنا ہے۔

Picture caption

محمد ریاض دس سال سے اس کارخانے میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کا کام تیار چوڑیوں کو رنگ کرنا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ چوڑیوں کے رنگ پکا کرنے اور انھیں دیرپا بنانے کے لیے اس میں تھنر، ہائیڈروجن اور دوسرے کیمیکلز کااستعمال کیا جاتا ہے جس سے چوڑیوں کی ظاہری شکل میں دلکشی تو آتی ہے مگر سپرے کرتے ہوئے کیمیکل ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر شدید تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارخانے میں ایک دن میں پانچ ہزار چوڑیاں بنائی جاتی ہیں جنھیں رنگنے کرنے کے لیے دن میں چار سے پانچ ڈبے کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہ زہر اپنے اندر اتارنے پر مجبور ہیں۔

اس کام کے دوران ریاض اور ان جیسے دوسرے کارکن چہرے پر کپڑے سے بنا ماسک تو پہنتے ہیں تاہم کپڑے کی یہ معمولی تہہ ان کے اندر اترنے والے زہریلے بخارات کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔

Picture caption

چوڑیوں کے رنگ پکا کرنے اور انھیں دیرپا بنانے کے لیے اس میں تھنر، ہائیڈروجن اور دوسرے کیمیکلز کااستعمال کیا جاتا ہے

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راشد ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ چوڑیاں رنگنے کے لیے استعمال کیے جانے والے تیزابی مواد کے کیمیاوی ردعمل سے ابتدائی طور پر سانس میں مشکلات، ناک میں الرجی، گلے میں سوزش اور اس مواد کا مستقل استعمال کرنے اور زیادہ دیر اس میں سانس لینے سے دمہ، فکس ڈرگ ایڈکشن اور کینسر جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

خواتین کے حسن اور عید کا لازمی جزو ، بظاہر رنگین اور دل آویز نظر آنے والی چوڑیاں، ایک طرف اپنی کھنکھناہٹ کے ساتھ اگر خواتین کو عید اور دوسرے تہواروں پر خوشیاں دے رہی ہیں تو دوسری طرف ریاض اور ان کے جیسے چوڑی گروں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بھی بجارہی ہیں جو اپنے گھر چلانے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے زہریلے کیمیکلز کو سانس کے ذریعے اپنے جسم میں اتارنے پر مجبور ہیں۔

PK Globe © 2018   | Privacy Policy   | Terms of Use   | About Us   | Contact Us Powered by OctaByte