PK Globe

It's all about Globe

پاکستان میں رواں ماہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن، دو صوبے متاثر


اسلام آباد میں کنٹرول روم کا ایک منظر

Picture caption

اسلام آباد میں کنٹرول روم کا ایک منظر

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے حصے کو مظفر گڑھ کے قریب ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان ظفریاب خان کا کہنا ہے کہ بدھ کو ‘گُدو اور مظفر گڑھ کے درمیان ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے دو صوبوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ ٹرِپنگ کس وجہ سے ہوئی ہے۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ترجمان ظفریاب خان نے مقامی میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی تردید کی کہ بریک ڈاؤن کی وجہ تربیلا پاور ہاؤس میں ٹرِپنگ تھی۔

‘تربیلا کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ تحقیقات کے بعد معلوم ہو گا کہ لائن میں خرابی کسی پاور پلانٹ کی وجہ سے ہوئی یا کوئی اور تکنیکی مسئلہ تھا۔‘

واضح رہے کہ نظام میں فالٹ کے بعد ملک بھر میں بجلی کی ترسیل کا نظام دو حصوں یعنی شمال اور جنوب میں تقسیم ہو گیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں بجلی کا بلیک آؤٹ ہو گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کراچی میں لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار کون ؟

پاکستان کے’ 40 فیصد علاقوں میں اب بھی گھنٹوں بجلی بند‘

لوڈ شیڈنگ، سندھ اسمبلی کی چوکھٹ پر چوڑیاں

ترجمان کے مطابق اس فالٹ کے باعث دونوں صوبوں میں موجود اکثر پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں۔

بجلی کے بریک ڈاؤن سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت دونوں صوبوں میں بجلی بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے اور اب تک ’پشاور اور مردان میں مکمل طور پر بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد کے اسی فیصد حصے میں بھی بجلی بحال کی گئی ہے تاہم فریکوئینسی قائم رکھنے کے لیے بجلی کی فراہمی منقطع بھی کی جا رہی ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور میں بھی بحالی کا کام جاری ہے۔ فیصل آباد، شیخوپورہ میں بھی کام جاری ہے جبکہ ملتان میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کی ٹرپنگ کے بعد سسٹم کو بچانے کے باعث پورا ملک متاثر نہیں ہوا’۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Picture caption

بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

خیال رہے کہ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بار بار بجلی جانے سے ایوان اندھیرے میں ڈوبتا رہا۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس طرح کا واقعہ پہلے بھی رونما ہوچکا ہے۔

اس سے پہلے یکم مئی کو بھی ملک بھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن اس وقت ہوا تھا جب نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہوگئی تھی۔

اس کی وجہ سے سسٹم سے 5 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی اور بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا تھا۔

PK Globe © 2018   | Privacy Policy   | Terms of Use   | About Us   | Contact Us Powered by OctaByte