PK Globe

It's all about Globe

وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف دھرنا


تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Photographs

Picture caption

شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں بعض شدت پسندوں کے واپس آنے اور متحرک ہونے کی خبریں آئی تھیں

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں احتجاجی دھرنے کا آج تیسرا دن تھا اور مظاہرین مطالبہ کررہے ہیں کہ ایجنسی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ اہل علاقہ کے مطابق گزشتہ ایک مہینے میں میرعلی اور میران شاہ کے مختلف علاقوں میں رات کی تاریکی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کم از کم دس لوگ مارے جاچکے ہیں۔

یہ احتجاجی دھرنا میرعلی کے مرکزی چوک پر جاری ہے اور سوشل میڈیا پر میرعلی سیٹ ان ہیش ٹیگ کے ذریعے دھرنے کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کئے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دھرنے کا آغاز دو دن پہلے ٹارگٹ کلنگ کے آخری واقعے کے بعد ہوا، جس میں موسی کلیم نامی ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ موسی کلیم جمعیت علمااسلام ف کے سابق ایم این اے مولانا دیندار خان کے صاحبزادے تھے۔

گو کہ اس دھرنے کا آغاز یوتھ آف وزیرستان نے کیا تھا لیکن اب پشتون تحفظ موومنٹ نے اسکی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور موومنٹ کے ایک رہنما محسن داوڑ دھرنے میں شرکت کے لئے میرعلی پہنچ چکے ہیں۔ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شمالی وزیرستان میں اسلحہ صرف پاکستانی فوج کے پاس ہے، بتایا جائے کہ یہ ٹارگٹ کلرز کون ہیں؟‘

منظور پشتین کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے دوران مقامی لوگوں کے مکانات سمیت تجارتی مارکیٹیں بھی تباہ کی گئیں اور لگ بھگ دس لاکھ لوگوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا لیکن وہاں آج بھی شدت پسند متحرک ہیں اور گزشتہ ایک مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دس لوگ مارے جاچکے ہیں۔

بی بی سی نے شمالی وزیرستان کی پیولیٹیکل انتظامیہ سے اس بارے میں بات کی بارہا کوشش کی لیکن کسی نے فون کو جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں بعض شدت پسندوں کے واپس آنے اور متحرک ہونے کی خبریں آئی تھیں، جس سے امن و امان کے حوالے سے اہل علاقہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایک ہفتہ قبل شمالی وزیرستان کے علاقے ہسوخیل میں لڑکیوں کے دو سکولوں کو بارودی مواد سے اُڑا دیا گیا تھا اور ایک غیر معروف تنظیم کی جانب سے ہاتھ سے لکھے گئے ایک پمفلٹ کے ذریعے ہائی سکول کی لڑکیوں کو سکول جانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھی۔

PK Globe © 2018   | Privacy Policy   | Terms of Use   | About Us   | Contact Us Powered by OctaByte