PK Globe

It's all about Globe

جھنڈے جلانے کا موسم – BBC Information Urdu


کابلتصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

گذشتہ ہفتے ایک تصویر دیکھی اور دل رویا، دوبارہ دیکھنے پر تھوڑی ہنسی آنی چاہیے تھی لیکن دل بےساختہ دوبارہ رو دیا۔

تصویر میں افغانستان کے شہری پاکستان کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں اور جیسا کہ مظاہروں میں ہوتا ہے پاکستان کا جھنڈا جلا رہے ہیں لیکن غور سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ جھنڈا دراصل نائجیریا کا ہے۔

کابل میں ایمبولینس بم کے دھماکے میں 95 افراد ہلاک

کابل: فوجی اڈے پر حملے میں 11 اہلکار ہلاک

پہلے رونا اس بات پر آیا کہ ہمارے افغان بھائی ہم سے اتنے بدگمان ہیں کہ ہمارے ملک کا جھنڈا جلا رہے ہیں۔ دوسرا رونا اس بات پر آیا کہ چار دہائیوں سے ہمارے امن اور جنگ کے دودھ شریک بھائیوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دکھائی کیسا دیتا ہے۔

اتنا غصہ اور اتنی اجنبیت۔ ہم برادر اسلامی ملک ہوا کرتے تھے۔ اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں لیکن اب بھی ایک دوسرے کا چہرہ پہچاننے سے قاصر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Picture caption

27 جنوری کو کابل میں ہونے والے دھماکے میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے

افغان غصے میں کیوں تھے۔ شاید آپ نے چھوٹی موٹی خبر سنی ہو کہ کابل ایک بار پھر نشانے پر ہے۔ آخری بڑے حملے میں بارود سے بھری ایک ایمبیولینس کابل کے ایک مصروف علاقے میں پھٹی اور سو سے زیادہ معصوم شہری مارے گئے۔

ہمارے کراچی کے ایک بڑے اخبار نے خبر لگائی کہ ایک خودکش حملہ آور نے سو افغانیوں کو اڑا دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جب ہمارے وزیراعظم نے تعزیت کے لیے افغان ہم منصب کو فون کرنا چاہتا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

آپ کو احساس ہوگا کہ جب کوئی تعزیت سننے سے انکار کر دے تو اس کی بدگمانی اور غصے کا کیا کیا عالم ہوتا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کے تناظر میں کہا کہ افغان یہ حملہ سو سال تک بھی نہیں بھولیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Photos

یہ بات شاید غصے میں کہی گئی ہو لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہ دھمکی نہیں پیشنگوئی ہے۔ مجھ جیسے موسمی دفاعی تجزیہ نگار عام طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ جنگ نائن الیون کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یہ سب بھول جاتے ہیں کہ یہ جنگ 40 سال سے جاری ہے۔

کبھی یہ افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں پر لڑی جاتی ہے تو کبھی پاکستان کے بازاروں اور مساجد میں۔ اس جنگ کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زیادہ افغان پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

ایک زمانے میں پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے والا ملک تھا۔ اب ان افغان پناہ گزینوں کی تیسری نسل جوان ہو رہی ہے اور ہم اپنی ماضی کی شاندار میزبانی بھول کر انھیں ہر ہفتے واپس بھیجنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

جب افغانستان میں قتلِ عام کا موسم شروع ہوتا ہے تو دل میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے کہ آج کابل تو کل کراچی، کوئٹہ، سوات۔ ہمسائے کے گھر کو آگ لگا کر ہاتھ سینکنے کی پالیسی نہ پہلے کامیاب ہوئی تھی نہ اب ہوگی۔

جب افغانستان میں قتلِ عام شروع ہوتا ہے تو افغانستان پر نیم قابض امریکہ میں دھواں دھار تجزیوں کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے معتبر تاریخ دان،خود اس جنگ میں شامل رہے اور سابق جرنیل سب یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ جیتی ہی نہیں جا سکتی۔ لیکن یہ کہنے کے فوراً بعد یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جنگ چھوڑی بھی نہیں جا سکتی۔

40 سال میں اس جنگ کی منطق کچھ اس طرح تشکیل دی گئی ہے کہ پاکستان نے اسے قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کر اس جنگ کو اپنی گلیوں اور بازاروں میں پھیلا دیا ہے۔

افغان آزادی چاہتے ہیں لیکن یہ فیصلہ مشکل ہے کہ آزادی امریکہ سے ملے گی یا طالبان سے۔ امریکہ اپنی عادت سے مجبور ہے۔ انڈیا کو یہ خیال ہے کہ ہمسائے میں اتنی دیر سے پارٹی چل رہی تھی اور اسے کسی نے بلایا ہی نہیں اور اب آ ہی گیا ہے تو یہ خون کی ہولی کیوں روکنا چاہے گا۔

اس جنگ کی اپنی ایک مضبوط معیشت بھی ہے۔ پاکستان اور افغان اشرافیہ نے اس جنگ سے جتنا پیسہ بنایا ہے، امریکہ کے اسلحہ سازوں، ٹھیکیداروں اور ان کے چھوٹے ٹھیکیداروں نے جتنا مال لوٹا ہے اس کے بعد سب کو علاقے میں امن سراسر گھاٹے کا سودا لگتا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Picture caption

دفاعی تجزیہ نگار عام طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ جنگ نائن الیون کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یہ سب بھول جاتے ہیں کہ یہ جنگ 40 سال سے جاری ہے۔

اشرف غنی صحیح کہتے ہیں۔ ہم اپنی تین نسلیں اس جنگ میں جھونک چکے ہیں تو اگلے سو سال کیا، ہزار سال بھی یہ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے اس خون آلود بھائی چارے میں نائجیریا کا جھنڈا کیسے آ گیا۔ یقیناً افغان مظاہرین کی کم علمی۔ جہاں تک مجھے علم ہے نائجیریا کبھی اس خطے میں ملوث نہیں رہا۔

لیکن اس جنگ کے شروع ہونے کے چند سال بعد 1980 کی دہائی کے اوائل میں نائجیریا کے ایک نوبیل انعام یافتہ ادیب نے ایک ڈرامہ لکھا تھا۔ وولے سوٹینکا نہ کبھی پاکستان آئے ہیں نہ افغانستان۔ ان کا ڈرامہ بھی نائجیریا کے بارے میں تھا جہاں کے کچھ عسکری حلقوں کا چلتے چلتے پاکستان کے مردِ مومن سے واسطہ پڑتا ہے۔ ڈرامے کا نام تھا ’فرام ضیا ود لو‘۔

اگر تجسس ہے تو ڈھونڈ کر پڑھ لیں ورنہ دل تو تسلی دے لیں کہ ہم ضیا کا دیا ہوا 40 سال پرانا پیار پال رہے ہیں۔

PK Globe © 2018   | Privacy Policy   | Terms of Use   | About Us   | Contact Us Powered by OctaByte